آئی شیل فیئر نو ایول

امریکی صدارتی امیدوار ایمانوئل پاسٹریچ (Emanuel Pastreich) کی کتاب “I Shall Fear No Evil” (آئی شیل فیئر نو ایول / مجھے کسی باطل سے نہیں ڈرنا چاہیے) کے آنے والے ترجمے کا اعلان

تشہیر سے لتھڑی اور بدعنوانی سے زہر آلود، 2020 کی صدارتی مہم سے صرف ایک امیدوار ہمارے معاشرے پر آنے والے زوال کی غیر متزلزل سائنسی درستگی کے ساتھ تشریح کے لیے آگے بڑھا ہے۔ ایمانوئل پاسٹریچ نے اعلان کیا کہ سیاسی جماعتوں کے متحارب جرائم پیشہ مافیا میں تبدیل ہونے کے بعد صرف ایک آزاد امیدوار ہی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے سکتا ہے۔ انھوں نے اپنی فصیح تقاریر کی سیریز میں، جس میں وہ ہمیں غیر فعال صارفین نہیں بلکہ عملی شہری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہماری قوم کو بدلنے کے لیے ٹھوس منصوبہ پیش کیا ہے۔   

پاسٹریچ کسی ایک فرد یا گروہ پر الزام نہیں لگاتے بلکہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ ہم آئین کی روح کی طرف لوٹ آئیں اور فریڈرک ڈگلاس اور ابراہم لنکن کی طرح اچھی حکمرانی کی اخلاقی بنیادیں دریافت کریں جنھیں پبلک ریلیشن فرمز، انویسٹمنٹ بینکوں، اور سیاست دانوں اور خود ساختہ ماہرین کے لشکروں نے کہیں دفن کر دیا ہے۔

یہ کتاب ان تقاریر پر مشتمل ہے جو ایمانوئل پاسٹریچ نے فروری (2020) میں انتخاب لڑنے کے ارادے کے اعلان کے بعد امریکی صدر کے عہدے کے لیے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کیں۔ انہوں نے تقریریں کیں اور ساتھی امریکیوں سے بھی ملاقات کی، خاص طور پر ان لوگوں سے جو ہمارے ملک میں گہری اخلاقی خرابیوں کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ اور ان لوگوں کی مدد سے انھوں نے امریکہ کے لیے ایک مثبت حکمتِ عملی تیار کرنا شروع کی، ایک ایسا مستقبل جس میں ہم وسائل کے بےدریغ استعمال، بھتہ خوری اور نہ ختم ہونے والی جنگ کے خطرناک کلچر سے دوری اختیار کریں جس نے قوم کو ایک خوفناک وائرس کی طرح متاثر کیا ہے اور جسے خطرناک پیراسائٹس نے بڑھاوا دیا ہے۔

ایمانوئل پاسٹریچ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران، آب و ہوا اور متنوّع حیاتیاتی نظام کی تباہی، انسانی معاشرے پر نئی ٹیکنالوجی کے تباہ کن اثرات، دولت کے تیز رفتار ارتکاز اور اسلحے کی عالمی دوڑ پر خصوصی توجہ کے ساتھ، سفارت کاری اور سیکیورٹی کی منطقی امریکی پالیسی کے لیے نمایاں آواز کے طور پر اُبھرے ہیں۔

پاسٹریچ نے اپنی تحریروں اور تقاریر میں فرینکلن ڈی روزویلٹ اور ایڈلی اسٹیونسن کی طرح بین الاقوامیت کی روایات کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔  

ان کا مطالبہ ہے کہ کارپوریشنوں کو گزشتہ سال کے دوران دیے گئے کھربوں ڈالرز واپس کیے جائیں، ایمیزون اور فیس بک جیسے گروپس کو باقاعدہ کوآپریٹو کے طور پر چلایا جائے اور فوسل فیول کارپوریشنوں کے اثاثوں کو فوری طور پر ضبط کیا جائے اور ان کے مالکان اور منتظمین کا آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق حکومت اور عوام کو جعلی معلومات فراہم کرنے کے جرم میں محاسبہ کیا جائے۔

کورین، جاپانی اور چینی زبانوں کے ماہر اور ایشیا کے ایکسپرٹ، پاسٹریچ نے 1998 میں یونیورسٹی آف اِلی نائس، اربانا-شمپین میں پروفیسر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ اور اس وقت وہ واشنگٹن ڈی سی، سیول، ٹوکیو اور ہنوئی میں واقع، سفارتکاری، سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی پر فوکس کرنے والے تھنک ٹینک ‘دی ایشیا انسٹیٹیوٹ’ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ایمانوئل پاسٹریچ

I Shall Fear no Evil

اردو جیسی  مقدس زبان میں “مجھے کسی برائی سے نہیں ڈرنا چاہئے” کے عنوان سے میری تقاریر کی اشاعت میرے لئے بے حد اہمیت کی حامل ہے ،اور اس وقت جب  پاک-امریکہ  تعلقات ایک  نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور  پوری دنیا میں کارپوریٹ میڈیا یہ مطالبہ کررہا ہے کہ پاکستان کو دو سپر پاورز کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا، کہ اسے واشنگٹن یا بیجنگ کے مطالبات میں سے کسی ایک کو تسلیم کرنا ہوگا۔  کچھ بھی ہو  لگتا  یہی ہے کہ امریکی بیجنگ کے کیمپ میں پاکستان کا پیچھا کرنا چاہتے ہیں اور عالمی سطح پر پاکستانیوں  کو عالمی تعاون کے شراکت داروں کے درمیان تنہا کرنا چاہتے ہیں۔

چینی ادب اور ثقافت کے تربیت یافتہ امریکی کی حیثیت سے، کسی ایسے شخص کی طرح جو پاکستان اور ہندوستان کی قدیم روایات کے لئے گہرا احترام رکھتا ہے، اور  ایسے شخص کے لحاظ سے جو افسوس کا اظہار کرتا ہے  کہ اس قوم نے مسلط غیر ملکی سلطنتوں کی ظالمانہ تقسیم برداشت کی، جس  میں بہت سارے پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے،  مجھے کسی سے مطالبات کرنے میں دلچسپی نہیں ہے۔

ہم سب کو غلام بنانے کے لئے  ان مٹھی بھر طاقتوروں کے خوفناک منصوبوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے اس خطرناک لمحے پر اکٹھا ہونا چاہئے۔ پاکستان کے معزز عوام اس جدوجہد میں ہمارے ساتھی  ہیں۔ مجھے اس بات پہ خوشی ہے کہ میرے بہت سارے طالب علم پاکستا ن سے ہیں  اور میں ان کی روح کی پاکیزگی کی تعریف کرتا ہوں جو  ایک ایسے ملک سے آتی ہے  جو کہ ایک ” خالص مقام” ہے اور انہوں نے مجھے یہ سب دکھایا بھی ہے۔

جنوبی کوریا میں  کئی سالوں تک میرے قیام  کے دوران، مجھ سے اکثر اس ملک کے شمالی اور جنوبی طور پر اس المناک تقسیم کے بارے میں میری رائے طلب کی گئی۔ میں کوئی ماہر  تو نہیں تھا لیکن میں نے کوریا میں قیام کے دوران اس سانحے کو سمجھنے کی کوشش کی جو عظیم طاقتوں کی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔

پاکستان کے معاملے میں، خاندانوں  کی المناک تقسیم، جانوں کے ضیاع، ثقافت اور معاشرے کے تانے بانے کا بکھرنا،  ایک ایسے موضوع کی طرح لگتا ہے جس پر کوئی امریکی بحث نہیں کرنا چاہتا ۔

پھر بھی عظیم الشان طاقتوں کے جوڑ توڑ کی وجہ سے پاکستان اور اس کے خوبصورت لوگوں نے جو المیہ برداشت کیا ہے وہ مجھ پر واضح ہے، اور جو بھی تاریخ پڑھنے کی زحمت کرتا ہے اس پر بھی یہ بات واضح  ہو جاتی ہے ۔

میں پاکستان کو اتنی اچھی طرح سے نہیں جانتا کہ اس بارے میں کوئی خاص تبصرہ کروں کہ میرے ملک کی  انتظامیہ کی آپ کے معزز ملک کے بارے میں کیا پالیسی ہے۔

تاہم، میں یہ کہہ سکتا ہوں پاکستان کے شہریوں کی ہندوستان میں دوست احباب اور خاندانوں کی تقسیم ،یا پھرکہیں اور سے بھی ہونے والی تقسیم، یہ  جغرافیائی سیاسی کھیل  جو علاقے، مذہب اور یہاں تک کہ زبان کے لحاظ سے کھیلا گیا تھا، یہ غلط تھا۔

مجھے امید ہے کہ پاکستان کی مدد اور حمایت  سے ہم پہلی بار ایک بہتر ریاست ہائے متحدہ، ایک عظیم ریاست ہائے متحدہ تشکیل دے سکتے ہیں۔  اور یہ نوزائیدہ ریاست ہائے متحدہ جنوبی ایشیاء میں اتحاد کے لئے پرعزم ہو گی، تاکہ مشترکہ بنیادیں تلاش کی جا سکیں اور وہ المناک داستان جانی جا سکے کہ پاکستان  کو یہ نقصان کیوں پہنچا اور اس کی وجہ کیا تھی۔ میں  یہ تعلق بنانے کی پوری کوشش کروں گا تاکہ پورے جنوب مشرق کے عام لوگ دوبارہ بلا خوف و خطر  دوبارہ مل سکیں۔

پاکستان اور اس کے معزز عوام  قابل احترام ہیں۔ پاکستان دنیا کا ایک اہم ملک ہے اور میں عالمی امن میں  اس کے اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیتوں  کے متعلق پرجوش ہوں۔ مزید یہ کہ چاہے یہ ویدک سلطنت ہو، یا مغل سلطنت، یا جدید دور میں پاکستان کی کوششیں، امریکہ گہرے بحران کے اس دور میں آپ کی بھرپور اور گہری روایات سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ ہم ایک جوان اور نادان قوم ہیں۔ ہماری ترقی کا اگلا مرحلہ پاکستان کی مناسب عاجزی  اور قدیم روایات سےسیکھنا ہے۔

میں اپنے ہاتھ پھیلاتا ہوں اور آپ سے احترام سے کہتا ہوں کہ میرے ساتھ شامل ہوں، ہمارے ساتھ شامل ہوں ، پاکستان اور امریکہ کے مابین نیا تعلق پیدا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ رشتہ جتنا بھی نیا ہوسکتا ہو، حقیقت میں اس کی زیادہ تر طاقت پاکستان اور اس کے لوگوں کی قدیم ثقافت پر مبنی ہوگی۔